اقراء – مسجد میں ٹیلی ویژن رکھنا جائز ہے؟ – Magazine


تفہیم المسائل

سوال: کیا اسلامی ملک میں مسجد میں ٹیلی ویژن رکھنا جائز ہے ؟، اور کیا اس کی موجودگی میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟اگر نہیں تو کراچی کی ایک مسجد میںمنبر اور محراب کے دائیں اور بائیں جانب دو بڑی اسکرین یعنی ایل سی ڈی لگی ہوئی ہے ،جن میں مکہ اور مدینہ شریف کے لائیو چینل چل رہے ہیں، میں اس کاچشم دید گواہ ہوں۔اس بارے میں آپ کی رہنمائی کا طلبگار ہوں تا کہ مسجد کے منتظمین سے اس مسئلے پر واضح گفتگو ہو سکے۔( محمد عظیم ، کوئٹہ )

جواب:چند سال قبل ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے شہر بھر کی مساجد میں ٹیلی ویژن اسکرین لگائے گئے تھے ،جس کے بارے میں ہم نے ایک تفصیلی فتویٰ جاری کیاتھا ،ذیل میں مکمل فتویٰ درج کیاجارہاہے :

مساجد میں انٹر نیٹ یاکیبل سے لنک کرکے ٹیلیویژن اسکرین نہ لگائی جائیں، یہ آدابِ مسجد کے منافی ہے اور اس سے مسجد میں انتشار اور فتنے کا اندیشہ ہے ۔مسجد میں سب نمازیوں کو اپنے اپنے انداز سے نوافل، تلاوت، ذکر واذکار اور درود وتسبیحات اور اَورَاد پڑھنے کا حق حاصل ہے۔اس سے کل یہ مقابلہ شروع ہو جائے گا کہ کس عالم یا قائد کی تقریر کلوز سرکٹ ٹیلیویژن کے ذریعے مسجد میں سنائی اور دکھائی جائے۔

رمضان المبارک میں کثیرتعدا د میں لوگ مسجدوں میں اعتکاف میںبیٹھتے ہیں، اعتکاف کی رُوح خَلوت ہے ،ان لوگوں کو اپنی نفلی عبادات، تلاوت واذکار ودرود اورقضا نمازیں پڑھنے سے محروم نہ کیاجائے ۔ کسی بزرگ کے جو عقیدت مند ایسا کرنا چاہتے ہیں،وہ اپنے گھروں میں ایسا انتظام کرسکتے ہیں یا اجازت لے کر پارک میں کرسکتے ہیں ،جو لوگ شوق اور عقیدت رکھتے ہیں ، وہ وہاں جمع ہوجائیں گے ۔مذکورہ دینی تنظیم کی قیادت کو چاہئے کہ اپنے پُرجوش کارکنوں کو روکیں، نظم کا پابند کریں اورمساجدِ اہلسنت میں تنازعات پیدانہ کریں ۔

دعوتِ دین کو قرآن مجید نے حکمت کے ساتھ مشروط کیا ہے اور مقاصد شریعت میں ’’سَدِّ ذرائع‘‘ بھی ہے ،یعنی ممکنہ شَر کا سَدِّ باب کرنا ، مَفاسِد اور خرابیوں کا راستہ روکنا۔رسول پاک ﷺنے بھی اسی دینی حکمت کے تحت اپنے بعض پسندیدہ امور کو ترک فرمایا ہے ۔ مثال کے طور پر آپ ﷺ کی خواہش تھی کہ بنائے قریش پر بنی ہوئی ’’کعبۃ اللہ ‘‘ کی عمارت کو شہید کردیں اور پھر اس میں’’حطیم‘‘ کو شامل کرکے بنائے ابراہیم پر تعمیر کریں،اسلام کو حجاز میں غلبہ حاصل ہوچکا تھااور آپ کے پاس مالی وسائل بھی تھے۔

لیکن آپ ﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:ترجمہ:’’اگر تمہاری قوم نے نیا نیاکفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں بیت اللہ کی عمارت کو منہدم کردیتااور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قائم کی ہوئی بنیادوں پر قائم کرتا، کیونکہ جب قریش نے اس کو بنایا تھا تو(وسائل کی کمی کے سبب ایک جانب سے) اس کو چھوٹا کردیا تھااور میںاس کی پچھلی جانب بھی ایک دروازہ بناتا ،(صحیح مسلم:3227)‘‘۔

نوٹ: امام اہلسنت کی یہ عبارت نہایت دقیق ہے ، عام اردو داں قاری کے لئے اس کا سمجھنا دشوار ہے،الفاظ واصطلاحات کافی مشکل ہیں ،اس لئے ذیل میں ہم نے آسان عبارت میں اس کا مفہوم بیان کیا ہے:امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے :ان امور میں قاعدہ کلیہ جسے ضروریادرکھناچاہئے یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی اور حرام کاموں سے بچنے کو مخلوق کی خوشنودی پر ترجیح دے اور ان امورمیں کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرے، دینی حکمت کے تحت مخلوق کی دلداری اور ان کے جذبات کومستحب کاموں پر ترجیح دے ، یعنی لوگوںکی دلداری کی خاطر افضل کاموں کو چھوڑا جاسکتا ہے اور دینی مصلحت کے تحت بعض اوقات خلافِ اَولیٰ کام بھی کیاجاسکتا ہے۔

دین کے مبلغ کو لوگوں کے درمیان نفرت پیداکرنے سے گریز کرنا چاہئے، وہ لوگوںکے لئے اذیت اور دل آزاری کاسبب نہ بنے۔ اسی طرح لوگوں میں جو رسمیں اور طریقے جاری ہیں ،اگر وہ شریعت کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی شرعی عیب ہے ،تو محض اپنی بڑائی ظاہر کرنے اور اپنی پاکدامنی ثابت کرنے کے لئے عام لوگوں سے ہٹ کر کوئی شعار اختیار نہ کرے ،بلکہ لوگوں کے ساتھ ان رسوم میں شامل ہو۔اگر وہ لوگوں کی عام روش سے ہٹ کر کوئی الگ راستہ اپناتا ہے، تو یہ لوگوں کے دلوں کو دین کی طرف مائل کرنے کے مقصد خیر کے بالکل خلاف ہے ۔

خبر دار رہو،اس بات کوخوب توجہ سے سنو کہ یہ بہت خوبصورت باریک علمی نُکتہ اور حکمت کی بات ہے اور دین کے معاملے میں سلامتی اور وقار کا راستہ ہے ،جس سے بہت سے خشک مزاج زاہد اور باطنی کشف کا دعویٰ کرنے والے غافل اور جاہل ہوتے ہیں،وہ اپنے فاسدگمان میں بڑے دین دار بنتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ دین کی حکمت اورشریعت کے مقاصدسے بہت دور ہوتے ہیں ، خبردار ومُحکَم گیر یہ چندسطروں میں علمِ غزیر (وافر علم اس حکمت ودانش کے اس پیغام کو مضبوطی سے پکڑو،یہ چند سطریں ہیں ، مگر اس میں علم کا بڑا خزانہ ہے۔وباللہ التوفیق والیہ المصیر (یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہے)، (فتاویٰ رضویہ ،جلد4،ص:528،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور )‘‘۔

آپ نے جو صورت بیان کی ہے ،اس کے مطابق مسجد الحرام والے چینل پر بیت اللہ کا طواف ،صفاومروہ کے درمیان سعی ،پانچ وقتہ نمازیںاور دیگر سرگرمیاں لائیو دکھائی جاتی ہوں گی ،اسی طرح مسجدِ نبوی والے چینل میں پانچ وقتہ نمازیں ،ریاض الجنہ اور روضۂ رسول پر صلوٰۃ وسلام پیش کرنے والوں اور دیگر معمولات کودکھایاجاتاہوگا ، اس سے لوگوں کی نمازوں اور عبادات میں توجہ بٹے گی ۔مسجد کا ماحول توپرسکون اورعبادت کے لیے سازگار ہونا چاہیے ۔ہم کوئی ایجابی حکم تونہیں لگاسکتے ،لیکن ہماری رائے میں یہ حکمت دین کے منافی ہے اور اس سے اجتناب بہترہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید

اقراء سے مزید

اسلام سے مزید

مسائل سے مزید

Source link

The post اقراء – مسجد میں ٹیلی ویژن رکھنا جائز ہے؟ – Magazine appeared first on Savera.pk.



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں