اقراء – کیا راستے کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے؟ – Magazine

آپ کے مسائل اور اُن کا حل


سوال: ۔ 
ہمارے محلے کی مسجد چھوٹی سی تھی،جب کہ برابر میں چوبیس فٹ کا راستہ موجود تھا،ہم نے اس میں سے کچھ حصہ مسجد میں شامل کرلیا ہے جس سے کافی سہولت ہوگئی ہے ، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں، یہ شرعی مسجد نہیں اور یہاں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا۔ازروئے شریعت وضاحت فرمادیں،کیا یہ مسجدشرعی مسجد کہلائے گی یا نہیں ؟ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ نیزاس سے محلے والوں کو راستے میں پریشانی بھی نہیں ہوتی ، ابھی بھی راستہ کافی کشادہ ہے جو محلے کی ضرورت کے لئے کافی ہے ۔(محمد عارف،کراچی)

جواب:- اگر راستہ کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو ،بلکہ عام گزرگاہ ہو اور مسجدتنگ ہو تو راستے کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کرسکتے ہیں ، بشرطیکہ آمدورفت میں تنگی نہ ہو۔ ایسا کرنے سے وہ حصہ شرعی مسجدکے حکم میں ہوگا اور اس جگہ نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب ملے گا، کیونکہ عام راستہ ہو یا مسجد ہو، دونوں ہی اہل محلہ کی ضروریات کےلیے ہیں۔( الدر المختار ، کتاب الوقف ، مطلب جعل شئی من الطریق مسجداً 4/377 البحرالرائق ، فصل فی احکام المسجد 5/428۔الفتاویٰ الہندیہ 2/456 ۔ فتاویٰ رشیدیہ ،ص: 543)

اپنی رائے سے آگاہ کریں

مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر سے مزید

اقراء سے مزید

مسائل سے مزید

Source link

The post اقراء – کیا راستے کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے؟ – Magazine appeared first on Savera.pk.



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں