ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچ گئے

ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچ گئےلاہور:(02 اپریل 2018) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آج دوبارہ ہوگی، احتساب عدالت میں پیشی کے لئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث مسلسل چوتھی سماعت پر جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے جبکہ کیس کی سماعت محمد بشیر کریں گے، سابق وزیراعظم کی نیب ریفرنسز میں آج پچاسویں پیشی ہے۔اس سے قبل قائد مسلم لیگ (ن) مریم نواز کے ہمراہ خصوصی پرواز کے زریعے جاتی امرا لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے۔تیس مارچ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی جس کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء پر تیسرے روز جرح جاری رکھی۔سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے جیری فری مین سے متعلق سوال کیا جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ حسن نواز کے 2 ٹرسٹ ڈیڈ پر 2 جنوری 2006 کو دستخط کی جیری فری مین نےتصدیق کی اور وہ اس کے گواہ ہیں۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیےواجد ضیاء نے بتایا کہ ٹرسٹ ڈیڈ نیلسن اور نیسکول سے متعلق تھی جن کی کاپیاں جیری فری مین کے آفس میں ہیں جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا آپ نے جیری فری مین کو دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پاکستان آکر بیان دینے کا لکھا جس پر گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ نہیں ، انہیں پاکستان آنے کا نہیں کہا۔نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق گلف اسٹیل مل دبئی میں کب قائم ہوئی جس پر خواجہ حارث نے بتایا ‘ہماری تفتیش، دستاویزات اور کاغذات کی روشنی میں گلف اسٹیل مل 1978 میں بنی’، خواجہ حارث نے پوچھا 1978 کے شیئرز سیل کنٹریکٹ دیکھ لیں، کیا آپ نے ان کی تصدیق کرائی جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ اگر آپ نے تصدیق نہیں کرائی تو کیا آپ اس کنٹریکٹ کے مندرجات کو درست تسلیم کرتے ہیں جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا۔خواجہ حارث نے پوچھا ’14 اپریل 1980 کو آہلی اسٹیل مل بنی کیا آپ نے اس کے مالک سے رابطہ کیا’ جس پر واجد ضیاء نے کہا گلف اسٹیل کے بعد آہلی اسٹیل مل بنی لیکن ہم نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔خواجہ حارث نے پوچھا ‘جے آئی ٹی والیم 3 میں جو خط ہے، اس کے مطابق اسٹیل مل کا اسکریپ دبئی نہیں بلکہ شارجہ سے جدہ گیا’، واجد ضیا نے جواب دیا یہ بات درست ہے، خواجہ حارث نے پوچھا خط کے مطابق وہ اسکریپ نہیں بلکہ استعمال شدہ مشینری تھی جس پر واجد ضیاء نے کہا یہ درست ہے کہ اسکریپ نہیں بلکہ وہ استعمال شدہ مشینری تھی۔نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا ‘جے آئی ٹی نے دبئی اتھارٹی کو ایم ایل اے بھیجا کہ اسکریپ بھیجنے کا کوئی ریکارڈ موجود ہے’ جس پر واجد ضیا نے کہا ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا گیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا ‘جے آئی ٹی کے والیم میں کتنی ایسی دستاویزات ہیں جن پرسپریم کورٹ کی مہر ہے جس پر واجد ضیاء نے کہا ‘ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہواس موقع پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ‘کیا میں جے آئی ٹی کے والیم دیکھ سکتا ہوں’ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ زیادہ بول رہے ہیں، آپ کو اتنا کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ میں کچھ اور باتیں شامل کرنا چاہتا ہوں جس پر فاضل جج محمد بشیر نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اور نہ بولیں۔دوران سماعت نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور خواجہ حارث کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، خواجہ حارث نے کہا کہ ہم کافی مینٹل کام کررہے ہیں جس پرسردار مظفرعباسی نے کہا آپ مینٹل ہو گئے ہیں۔ بعدازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

The post ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت پہنچ گئے appeared first on Savera.pk.



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں