سنڈے میگزین – مصنوعی ذہانت اور مستقبل – Magazine


مصنوعی ذہانت کے میدان میں دُنیا نہایت تیزی سے ترقّی کر رہی ہے اور اس مَد میں سالانہ اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے پڑوسی ممالک پر نظر دوڑائیں، تو بھارت نے مصنوعی ذہانت سے استفادے کے لیے 48کروڑ ڈالرز مختص کیے ہیں اور چین بھی اس مَد میں سالانہ اربوں ڈالرز خرچ کر رہا ہے، جب کہ پاکستان نے اس حوالے سے سالانہ 33لاکھ ڈالرز مختص کیے ہیں اور ایچ ای سی (ہائیر ایجوکیشن کمیشن) نے 10کروڑ روپے کی مالیت سے شروع کیے گئے اپنے منصوبے میں اے آئی (Artificial Intelligence) کے میدان میں تحقیق کی خاطر 9لیبارٹریز قائم کرنے کے لیے 6سرکاری جامعات کو شارٹ لسٹ کیا ہے۔ 

ابتدا میں اس4سالہ پروگرام کے لیے منتخب تعلیمی اداروں سے200طلبہ کو فنڈز دیے جائیں گے اور ہر طالبِ علم کو 2لاکھ روپے سالانہ سبسڈی ملے گی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری قائم کرنے کے لیے ہر جامعہ کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ آج ترقّی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بَل پر کام کرنے والی خود کار مشینز یا روبوٹس متعدد شعبہ ہائے زندگی میں افرادی قوّت کی جگہ لے چُکے ہیں۔ حتیٰ کہ جذبات سے مملو روبوٹس انسانوں کی تفریحِ طبع کا ذریعہ بھی بن چُکے ہیں اور سڑکوں پر ڈرائیور کے بغیر دوڑتی پِھرتی گاڑیاں بھی اسی ٹیکنالوجی کا ایک نمونہ ہیں۔ 

سافٹ ویئر ڈیولپرز کی تخلیقی صلاحیتوں کی بہ دولت وجود میں آنے والی خود کار مشینز نے جہاں زندگی کو سہل بنا دیا ہے، وہیں خو د کار سازی میں آنے والی شدّت کے باعث یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انسان کے اشاروں پر ناچنے والی یہ کَٹھ پُتلیاں مستقبل میں اپنے آقا یعنی انسانوں پر حکومت کرنے لگیں گی اور ان کے درمیان گِھرے انسان کی وقعت ایک گھوڑے سی رہ جائے گی، جو ایک دَور میں انسانی زندگی کا جُزوِ لاینفک ہوا کرتا تھا۔ 

یہی وجہ ہے کہ ہم جہاں اکثر ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد، انسانی ارتقا کی خواہش مند شخصیات اور بعض میڈیا گروپس سے یہ سُنتے ہیں کہ خود کار مشینزیا روبوٹس ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، وہیں ایسے دانش وَروں، سیاست دانوں اور صحافیوں کی بھی کمی نہیں کہ جو ہمارے ’’خود کار مستقبل‘‘ کو قُربِ قیامت سے تشبیہ دیتے ہیں اور پھر مصنوعی ذہانت کے مخالفین میں آنجہانی ماہرِ طبیعیات، اسٹیون ہاکنگ کا نام قابلِ ذکر ہے۔ 

انتہا پسندی پر مبنی ان دونوں مفروضوں سے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے ۔ یعنی آپ یا تو خود کار مشینزکے حق میں ہیں یا پھر ان کے مخالف۔ یہ اَمر اس اعتبار سے حیران کُن ہے کہ انٹرنیٹ کے ابتدائی دَور سے ایسے ہی موضوعات پر بحث مباحثہ جاری ہے اور ہم کوئی حل فراہم کیے بغیر ہی انہیں دُہرانے میں مصروف ہیں۔ 

تاہم، ماہرین روبوٹس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خودکارسازی کے مستقبل کے چار منظر ناموں پر وسیع تناظر میں بحث مباحثے میں مصروف ہیں، جس میں دونوں اطراف کے انتہا پسندانہ نظریات کو بھی جگہ دی گئی ہے اور اس تناظر میںمصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی تحقیق کو مستقبل کی خود کار مشینز کا ایک اہم محرّک قرار دیا جا سکتا ہے۔

پہلا منظر نامہ متوازن خود کار سازی اور تیکنیکی حدبندی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 1980ء کی دہائی میں جب سائنس دانوں کی توجّہ کا مرکز ماہر نظام تھے، تو تب مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی تحقیق، خوش کُن وعدوں اور متنازع بحث و مباحث سے لبریز تھی اور گر چہ 2018ء میں ہم نے مصنوعی ذہانت کو محدود پیمانے پر ترقّی دی ہے، لیکن ایک مرتبہ پھر ایک وقت میں کئی کام انجام دینے والی سُپر انٹیلی جینس کے تصّورات سامنے آ رہے ہیں، مگر ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ فی الوقت مصنوعی ذہانت میں اتنی سکت، صلاحیت نہیں کہ وہ ہماری خیالی دُنیا کی توقّعات پر پوری اُتر سکے۔ 

اگر مصنوعی ذہانت کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو ہمیں ٹیکنالوجی کی ترقّی میں ایسی رُکاوٹوں کا مشاہدہ ہو گا کہ جو کمپیوٹنگ پاور میں موجود نقائص، ٹریننگ ڈیٹا کے معیار اور نتائج کو سمجھنے میں ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ماہرین کے مطابق، ہمیں ڈرائیونگ یا اقتصادی ماڈلز جیسے شعبوں میں سارے کام انجام دینے والی مکمل طور پر خود کار مشینز تیار کرنے کی اہلیت حاصل کرنا ہو گی، جب کہ دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ 

ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بیش تر ملازمتیں مختلف ذمّے داریوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جن سے عُہدہ برآ ہونے کے لیے کثرتِ ہُنر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ملازمت میں تبادلۂ خیال، حساب کتاب، معلومات جمع کرنے، تجزیے، تخلیقی صلاحیت، سماجی روابط، چابک دستی اور بہترین بصری و سمعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

اب ایک مشین کے لیے یہ تو ممکن ہو گا کہ وہ مختلف سسٹمز استعمال کرتے ہوئے کام کے مخصوص حصّے انجام دے، لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی کام کو مکمل طور پر خود کار انداز میں انجام دینے کے لیے ان تمام خصوصیات کو مجتمع کر لے۔ مزید برآں، خود کارسازی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور مخصوص کاموں کو خودکارمشینز یا روبوٹس پر منتقل کرنا، مالی طور پر باعثِ کشش نہیں ہوتا۔ 

سو، ہمیں اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ خود کار مشینز کا انحصار معلومات اور اعداد و شمار پر ہوتا ہے، جو ہمیشہ مطلوبہ تعداد یا معیار کے مطابق دست یاب نہیں ہوتیں۔ مذکورہ بالا وجوہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں زیادہ تر پیشوں میں افرادی قوّت ہی بالاتر اور ارزاں ہو گی اور انسان کو مخصوص شعبوں کو خود کار مشینز پر منتقل کرنا ہو گا۔ اگر یہ بات یاد رکھی جائے، تو متوازن خود کار سازی بہ تدریج ترقّی کرتی رہے گی اور یہ حالیہ مفروضوں کی طرح انتشار انگیز نہیں ہوگی۔

دوسرا منظر نامہ غیر معقول خود کار سازی اور خارجی حد بندی سے متعلق ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم نے کوئی چیز اس لیے تیار کی ہے کہ ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہم نے گزشتہ منظر نامے میں پیش کی گئی تیکنیکی حد بندیوں پرقابو پاتے ہوئےمستقبل میں اپنی زندگی کو خود کار سازی پر منتقل کرنا ہے ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی اس بات پر مجبور نہیں کر رہا کہ ہم اپنے علم کو وسیع پیمانے پر استعمال کریں، جب کہ خود کار مشینز کے حوالے سے ہونے والے بیش تر گفتگو کی بنیاد اسی مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ ہم دست یاب ٹیکنالوجی کو ہر حال میں استعمال کریں۔ 

یاد رہے کہ تا حال انسان ایک غیر معقول فیصلہ ساز ہے اور ہمیں اپنے چُنیدہ چُنیدہ کاموں ہی کے لیے خود کار مشینز کو بروئے کار لانا ہو گا۔ پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرے گا اور اپنے کام کو اپنے ہم منصب یعنی مشین سے زیادہ اہمیت دے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وسائل کی قلّت، آلودگی، تنازعات اور دوسری بیرونی ترغیبات اسے اپنے اختراعی خطِ حرکت سے دُور کر دیں۔ سو، اس منظر نامے میں انسان کو پہلے منظر نامے میں بیان کی گئی تیکنیکی حد بندیوں پر قابو پانا ہو گا۔ 

اصولی طور پر ہمیں زیادہ تر کاموں کو خود کار مشینز پر منتقل کرنا ہو گا اور یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گی کہ ثقافتی تبدیلی ،تیکنیکی کایا پلٹ جتنی تیزی سے نہیں آتی۔ اس موقعے پر بیرونی رُکاوٹیں ہمیں خود کار مشینز کا استعمال کم کرنے پر مجبور کریں گی، چناں چہ ہمیں ماضی میں استعمال کی گئی ٹیکنالوجی اور اپنے روایتی علم کی بہ دولت اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمیں کب اور کہاں خود کار ساز ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے۔  

تیسرے منظر نامے میں ہر جاموجود اور منظّم خود کار سازی پر بحث کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، مستقبل میں ہم وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، جو ماضی میں ناممکن دکھائی دیتا تھا اور اس کا سبب عمومی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کی تخلیق ہے۔ آیندہ برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ بالآخر عام افراد کی دسترس میں ہو گی اور سائنس ،مصنوعی ذہانت، حیاتیات، ہیلتھ کیئر اور دیگر شعبوں کے امتزاج سے انسانی صحت، طرزِ عمل اور ماحول جیسے دیگر پیچیدہ نظاموں کی مٔوثر انداز میں تفہیم کر سکے گی۔ 

اس علم کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ انسانی محنت کو خود کار مشینز پر منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، بلکہ ایک متبادل سیاسی، سماجی اور اقتصادی نظام بھی ترقّی پائے گا، جو مستقبل کے دستور سے بھی ہم آہنگ ہو گا۔ پھر خود کار سازی اور نِت نئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے انسانیت عمومی مصنوعی ذہانت کے باطن میں پوشیدہ خطرات کو بھی قبول کر لے گی اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے گا کہ انسان کی قوّتِ ادراک مصنوعی ذہانت کے ہر نظام کے ما حصل کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

بے روزگاری کے خلا کو بَھرنے کے لیے انسان ایک دوسرے کے درمیان روابط پر توجّہ دے گا اور تجربے پر مبنی معیشت تشکیل دی جائے گی، جس میں کھانا پکانے، نرسنگ، تیمار داری اور دست کاری سمیت دیگر انسانی تجربات کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ اس موقعے پر تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرنے والے افراد اور ٹیکنالوجی سے رغبت رکھنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کو تربیتی نشستوں اور مالی معاونت کے ذریعے ختم کیا جائے گا، جو ایک خود کار ٹیکس نظام کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

مصنوعی ذہانت سے متعلق مستقبل کے چوتھے منظر نامے میں ماہرین نے تُند و تیز مکمل خود کار سازی پر بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تیز رفتار خود کار سازی کی صورت میں ہمیں سُرعت کے ساتھ انسانی مزدوری کے بارے میں دوبارہ سوچنا ہو گا اور اپنی اُن تمام اقدار اور نظریات کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہو گا، جن سے ہم اس وقت جُڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت زیادہ تر افراد سرمایہ کاری ہی کو اختراعات کا محرّک سمجھتے ہیں، لیکن مستقبل کے منظر نامے میں اس اساسی نظریے کو بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

اس وقت سرمایہ داری کا مفروضہ یہ ہے کہ اقتصادی بڑھوتری اور پیداوار میں اضافہ مزید کھپت کی جانب لے جاتا ہے اور یہ آگے چل کر زیادہ سے زیادہ اُجرت میں منتقل ہو جاتا ہے، چناں چہ پورے معاشرے کی اقتصادی بہتری پر اس کے مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ تاہم، مکمل خود کار سازی کے نتیجے میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے والا کاروباری طبقہ، جو یہ خود کار نظام تخلیق کرے گا، کافی انسانی ملازمتیں نہ ہونے کے سبب پیداوار میں اضافے سے لے کر زیادہ سے زیادہ اُجرت کے منطقی مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر حتمی طور پر طاقت اور پیسے کو جمع کر لے گا اور اقتصادی بڑھوتری اور کھپت میں اضافے جیسے محرّکات سے اجتناب کرے گا۔ 

تاہم، مساواتِ انسانی کا بنیادی آمدنی کا آفاقی نظریہ کار آمد رہے گا کہ انسان اپنے سماجی مرتبے میں اضافے کی خواہش میں خود کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے لیےہمیشہ سے تگ و دو کرتا آیا ہے۔ لہٰذا، ایسی اشرافیہ کی موجودگی میں، جس کے پیشے کو خود کار مشینز پر منتقل نہیں کیا جا سکتا یا جو خود کار سازی سے براہِ راست مستفید ہو گی، سماجی نا ہم واری مزید شدّت اختیار کر جائے گی۔ ماہرین کے مطابق، خود کار سازی کی رفتار اور اس کی بے ہنگم رسائی کے تناظر میں چوتھا منظر نامہ، تیسرے سے مختلف ہے۔ یعنی تیسرے منظر نامے میں ہمارے موجودہ نظام کے لیے ایک معنی خیز متبادل بیان کیا گیا ہے، جب کہ چوتھے منظر نامے میں ایک چھوٹی سی اقلیت کے اقتصادی منافعے پر توجّہ دی گئی ہے، جس کا نتیجہ مزید نا ہم واری کی صورت برآمد ہوتا ہے۔

تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ تمام منظر نامے پتّھر پہ لکیر نہیں ہیں اور ان میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک جانب یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں 50فی صد یا اس سے زاید افرادی قوّت خود کار مشینز پر منتقل ہو جائے گی اور یہ صرف ایک مفروضہ ہی رہے گا، جب کہ دوسری جانب ہمیں یہ سوچ کر سُست نہیں پڑ جانا چاہیے کہ انسان مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلی سے بہ آسانی نمٹ لے گا، جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ نیز، ہمیں قیامت کی پیش گوئیاں اور ایک خیالی دُنیا میں رہتے ہوئے بہت زیادہ خوش کُن وعدے بھی نہیں کرنے چاہئیں۔ 

گو کہ ہوش مندی اور دانائی کے ساتھ تبدیلی کے اس مرحلے پر نظر رکھنا زیادہ پُر لطف نہ ہو، لیکن ہمیں مستقبل کی بہتر تیاری کے لیے اسے آزمانا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں ہر ایک کی ضروریات،نظریات، خدشات اور توقّعات کو جاننے کے لیے عالم گیر سطح پر مکالمے کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے اور حکومتوں کو مستقبل میں خود کار سازی کے نتیجے میں سماج پر مرتّب ہونے والے اثرات اور جنم لینے والے مسائل کے حل کی خاطر تحقیق کے لیے متعلقہ اداروں کو وسائل فراہم کرنے چاہئیں اور اسی صورت ہم مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

سنڈے میگزین سے مزید

ٹیکنالوجی سے مزید

Source link

The post سنڈے میگزین – مصنوعی ذہانت اور مستقبل – Magazine appeared first on Savera.pk.



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں